حدیث نمبر: 15394
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : كَانَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا تُغَطِّي رَأْسَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا مِنْ عَشَرَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ : حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخُوهَا ، وَجَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ ابْنَا أَبِي طَالِبٍ ابْنَا أَخِيهَا ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ابْنُهَا ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ابْنُ ابْنَةِ أَخِيهَا ، أَمُّهُ أَرْوَى بِنْتُ كُرَيْزٍ ، وَأُمُّهَا الْبَيْضَاءُ أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ وَأَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ ابْنَا أُخْتِهَا بَرَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأُمِّ طُلَيْبِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ قُصَيٍّ : أَرْوَى بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ .وَأَبِي أَحْمَدَ الْأَعْمَى الشَّاعِرِ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ جَحْشِ بْنِ رِئَابِ بْنِ يَعْمَرَ بْنِ صَبْرَةَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ غَنْمِ بْنِ وَرْدَانَ بْنِ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، أُمَيْمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . تُوُفِّيَتْ صَفِيَّةُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّةُ قَتْلِهَا الْيَهُودِيَّ فِي قُرَيْظَةَ وَغَزْوَةِ أُحُدٍ أَيْضًا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت عبدالمطلب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر اور مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے دس افراد میں سے کسی کی آمد پر سر نہیں ڈھانپتی تھیں ( وہ دس افراد یہ ہیں : ) ” سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ، جو اس خاتون کے بھائی ہیں ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں جناب ابوطالب کے صاحبزادے ہیں اور اس خاتون کے بھتیجے ہیں ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، یہ اس خاتون کے صاحبزادے ہیں ، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ، جو اس خاتون کی بھتیجی کے صاحبزادے ہیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ ارویٰ بنت کریز ہیں اور اُس خاتون کی والدہ بیضاء ام حکیم بنت عبدالمطلب ہیں ، اور ابوسلمہ بن عبدالاسد سے اور ابوسبرہ بن ابورہم ، یہ دونوں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی بہن برہ بنت عبدالمطلب کے صاحبزادے ہیں ، اور طلیب بن عمیر بن وہب بن عبد بن قصی کی والدہ ، ارویٰ بنت عبدالمطلب ہیں ، اور عبداللہ اور ابو أحمد نابینا ، جو شاعر ہیں ، اُن کا نام عبد بن جحش بن رئاب بن يعمر بن صبره بن مرہ بن کثیر بن غنم بن وردان بن اسد بن خزیمہ ہے ( ان دونوں کی والدہ ) امیمہ بنت عبدالمطلب ہیں ۔ “ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ایک یہودی کو قتل کرنے کا واقعہ قریظہ کے ساتھ جنگ اور غزوہ احد سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (319/24)»