مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ أُمَامَةَ بِنْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - باب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كَانَتْ أُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ أُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا قَالَ لَهَا : لَا تَزَوَّجِي ، فَإِنْ أَرَدْتِ الزَّوَاجَ فَلَا تَخْرُجِي مِنْ رَأْيِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ ، فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، فَجَاءَتْ إِلَى الْمُغِيرَةِ تَسْتَأْمِرُهُ ، فَقَالَ لَهَا : أَنَا خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ ، فَاجْعَلِي أَمْرَكِ إِلَيَّ ، فَفَعَلَتْ فَدَعَا رِجَالًا فَتَزَوَّجَهَا ، فَهَلَكَتْ أُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ ، وَلَمْ تَلِدْ لَهُ ، فَلَيْسَ لِزَيْنَبَ عَقِبٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں ، سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے سیده امامہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم شادی نہ کرنا ، اگر تمہارا شادی کرنے کا ارادہ ہو تو مغیرہ بن نوفل کے مشورے کے خلاف نہ کرنا ، سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا ، وہ سیدنا مغیرہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تاکہ ان سے مشورہ لیں ، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں معاویہ کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوں ، آپ اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیں ، تو اس خاتون نے ایسا ہی کیا ، تو ان صاحب نے کچھ مردوں کو بلایا اور اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی ، تو سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کا انتقال مغیرہ بن نوفل کی زوجیت میں ہوا ، انہوں نے ان صاحب کے کسی بچے کو جنم نہیں دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بھی ان کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں رہی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔