مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيْضِ وَالْمُسْتَحَاضَةِ . باب: حیض اور استحاضہ والی عورت کے بارے میں کیا منقول ہے؟
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنِّي أَسْتَحَاضُ ، فَقَالَ : " دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عُرْوَةَ وَلَمْ يَنْسُبْهُ ، فَقِيلَ : هُوَ عُرْوَةُ الْمُزْنِيُّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَقِيلَ : عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَلَمْ يَسْمَعْ حَبِيبٌ مِنْهُ ، وَحَبِيبٌ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت ابوحبیش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اُس نے کہا: میں استحاضہ کا شکار ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے حیض کے مخصوص ایام میں نماز ترک کر دو ، پھر غسل کر لو اور ہر نماز کے وقت وضو کر لو ، خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے عروہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ مزنی ہے اور وہ مجہول ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ بن زبیر ہیں ، لیکن حبیب نامی راوی نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، حبیب نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے
یہ روایت ” عنعنہ“ کے طور پر نقل کی ہے ۔