کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حیض اور استحاضہ والی عورت کے بارے میں کیا منقول ہے؟
حدیث نمبر: 1535
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلَاثٌ ، وَأَكْثَرُهُ عَشْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ الْكُوفِيُّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ كَثِيرٍ ، لَا نَدْرِي مَنْ هُوَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حیض کی کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبدالملک کوفی نے ، علاء بن کثیر سے نقل کیا ہے ، ہمیں نہیں معلوم یہ کون ہے ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب الالف من اسمه احمد 605 ، المعجم الكبير للطبراني باب الصاد ما اسند ابوامامة مكحول الشامي ، 7423»
حدیث نمبر: 1536
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَائِضُ تَنْظُرُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَشْرٍ ، فَإِنْ رَأَتِ الطُّهْرَ فَهِيَ طَاهِرٌ ، وَإِنْ جَاوَزَتِ الْعَشْرَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ ; تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ احْتَشَّتْ وَاسْتَثْفَرَتْ وَتَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، وَتَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْأَرْبَعِينَ ، فَإِنْ رَأَتِ الطُّهْرَ قَبْلُ فَهِيَ طَاهِرٌ ، وَإِنْ جَاوَزَتِ الْأَرْبَعِينَ فَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ ; تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ احْتَشَّتْ وَاسْتَثْفَرَتْ وَتَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیض والی عورت دس دن تک دیکھے گی ، اگر وہ طہر دیکھ لیتی ہے ، تو وہ پاک ہو جائے گی ، اور اگر دس دن سے زیادہ ہو جاتے ہیں ، تو پھر وہ استحاضہ والی عورت شمار ہو گی ، وہ غسل کر کے نماز ادا کرے گی ، اگر زیادہ خون نکلتا ہے ، تو وہ روئی رکھ کر کپڑا باندھ لے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی ، نفاس والی عورت چالیس دن تک رہے گی ، پھر اگر وہ اس سے پہلے طہر دیکھ لیتی ہے ، تو وہ پاک شمار ہو گی اور اگر چالیس دن سے زیادہ ہو جاتے ہیں ، تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہو گی ، وہ غسل کر کے نماز ادا کر لے گی ، اگر زیادہ خون نکل رہا ہو ، تو وہ روئی رکھ کر کپڑا باندھ لے گی ، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ عمر بن الحصین۔
حدیث نمبر: 1537
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لِتَنْتَظَرِ الْحَائِضُ خَمْسًا سَبْعًا ثَمَانِيًا تِسْعًا عَشْرًا ، فَإِذَا مَضَتِ الْعَشْرُ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْجَلْدُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت ابوحبیش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اُس نے کہا: میں استحاضہ کا شکار ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے حیض کے مخصوص ایام میں نماز ترک کر دو ، پھر غسل کر لو اور ہر نماز کے وقت وضو کر لو ، خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے عروہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ مزنی ہے اور وہ مجہول ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ بن زبیر ہیں ، لیکن حبیب نامی راوی نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، حبیب نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے
یہ روایت ” عنعنہ“ کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1538
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلْحَائِضِ دُفُعَاتٌ ، وَلِدَمِ الْحَيْضِ رِيحٌ يُعْرَفُ بِهِ ، فَإِذَا ذَهَبَ قُرْءُ الْحَيْضِ فَلْتَغْتَسِلْ إِحْدَاكُنَّ ، ثُمَّ لِتَغْسِلْ عَنْهَا الدَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ شیطان کا چھبونا ہے ، جو وہ عورت کے رحم میں چھبوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضى الله عنهما عكرمة عن ابن عباس ، 11310»
حدیث نمبر: 1539
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنِّي أَسْتَحَاضُ ، فَقَالَ : " دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عُرْوَةَ وَلَمْ يَنْسُبْهُ ، فَقِيلَ : هُوَ عُرْوَةُ الْمُزْنِيُّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَقِيلَ : عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَلَمْ يَسْمَعْ حَبِيبٌ مِنْهُ ، وَحَبِيبٌ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت ابوحبیش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اُس نے کہا: میں استحاضہ کا شکار ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے حیض کے مخصوص ایام میں نماز ترک کر دو ، پھر غسل کر لو اور ہر نماز کے وقت وضو کر لو ، خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے عروہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ مزنی ہے اور وہ مجہول ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ بن زبیر ہیں ، لیکن حبیب نامی راوی نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، حبیب نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے
یہ روایت ” عنعنہ“ کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف؛ راوی کی جہالت، انقطاعِ سند اور حبیب کی تدلیس
حدیث نمبر: 1540
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ قَالَ : " تِلْكَ رَكْضَةٌ مِنْ رِكَاضِ الشَّيْطَانِ فِي رَحِمِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت ابوحبیش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اُس نے کہا: میں استحاضہ کا شکار ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے حیض کے مخصوص ایام میں نماز ترک کر دو ، پھر غسل کر لو اور ہر نماز کے وقت وضو کر لو ، خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :

یہ روایت ” صحیح“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” خواہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں“ ۔

یہ روایت امام أحمد نے عروہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ مزنی ہے اور وہ مجہول ہے ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد عروہ بن زبیر ہیں ، لیکن حبیب نامی راوی نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، حبیب نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے

یہ روایت ” عنعنہ“ کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1541
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ فَقَالَ : " تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ ، ثُمَّ تَحْتَشِي وَتُصَلِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ اپنے حیض کے مخصوص ایام میں بیٹھی رہے گی ، اور پھر طہر کے وقت غسل کر کے کپڑا باندھ لے گی ، اور نماز ادا کرے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1541
درجۂ حدیث محدثین: صحیح لغیرہ
حدیث نمبر: 1542
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَةَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ . ¤ وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
معجم اوسط میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ عورت کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا تھا ۔ پہلی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور اوسط کے رجال میں ایک شخص عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1542
درجۂ حدیث محدثین: حدیث صحیح
حدیث نمبر: 1543
وَعَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَجْلِسُ فِيهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرٌ عَنْ سَوْدَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مستحاضہ ، حیض کے مخصوص ایام میں نماز ترک کیے رکھے گی ، جن ایام میں وہ پہلے بیٹھی رہتی تھی ، پھر وہ ایک مرتبہ غسل کر لے گی اور پھر ہر نماز کے وقت وضو کر لے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے جعفر نے ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا جن سے نقل کیا ہے اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1544
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ مِنْ قُرْءٍ إِلَى قُرْءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” استحاضہ والی عورت ، ایک حیض سے دوسرے حیض تک کے لیے غسل کرے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف