حدیث نمبر: 15386
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ : اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعُ نِسْوَةٍ مَعَ صَفِيَّةَ بَعْدَ خَدِيجَةَ ، مَاتَ عَنْهُنَّ كُلِّهِنَّ . ¤ قَالَ : وَزَادُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ امْرَأَتَيْنِ سِوَى التِّسْعِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، كِلْتَاهُمَا جَمَعَ ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا تُدْعَى أُمَّ الْمَسَاكِينِ ، وَكَانَتْ خَيْرَ نِسَائِهِ لِلْمَسَاكِينِ ، وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي الْجَوْنِ ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ فَطَلَّقَهَا وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ كِنْدَةَ وَلَمْ يُجَامِعْهَا ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَّقَ عُمَرُ بَيْنَهُمَا ، وَضَرَبَ زَوْجَهَا . ¤ فَقَالَتْ : اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ ; إِنْ كُنْتُ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَاضْرِبْ عَلَيَّ الْحِجَابَ ، وَأَعْطِنِي مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُنَّ . قَالَ : أَمَّا هُنَالِكَ فَلَا ، قَالَتْ : فَدَعْنِي أَنْكِحْ . قَالَ : لَا وَلَا نِعْمَةَ ، وَلَا أُطَمِعُ فِي ذَلِكَ أَحَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَزِيَادَةُ عُثْمَانَ مُعْضِلَةٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابن ابوملیکہ اور عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سمیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نو ازواج اکٹھی رہی تھیں اور ان تمام ازواج کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں ہی ہوا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عثمان بن ابوسلیمان نے ان نو خواتین کے علاوہ مزید دو خواتین کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے تھا اور یہ دونوں ساتھ رہی تھیں ان میں سے ایک کو ام المساکین کہا: جاتا ہے جو آپ کی تمام ازواج میں سے مساکین کے حق میں سب سے زیادہ بہتر تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی تھی ، جب وہ خاتون آپ کے پاس آئی تو اس نے آپ سے پناہ مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کندہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی تھی ، لیکن آپ نے اس کی رخصتی نہیں کروائی ، اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسری شادی کر لی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون اور اس کے شوہر کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی اور اس کے شوہر کی پٹائی کی تھی ، تو اس خاتون نے کہا: تھا کہ اے عمر ! اللہ سے ڈرو اگر میں امہات المؤمنین میں سے ایک ہوتی تو تم نے مجھے بھی پردے کا حکم کرنا تھا اور مجھے بھی وہی ادائیگیاں کرنی تھیں جو ان امہات المؤمنین کو ادائیگی کرتے ہو ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن اب تو ایسا نہیں ہے ، تو اس خاتون نے کہا: پھر تم مجھے نکاح کرنے دو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں یہ نہیں ہو سکتا اور اب میں کسی کو ایسا کرنے بھی نہیں دوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور عثمان نامی راوی کا نقل کردہ اضافی حصہ ” معضل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل و معضل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (448/22)»