مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي زَوْجَاتِهِ وَسَرَارِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - باب: نبی اکرم ﷺ کی ازواج اور آپ کی کنیزوں کا بیان
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عَتِيقِ بْنِ عَائِذٍ الْمَخْزُومِيِّ . ثُمَّ تَزَوَّجَ عَائِشَةَ بِمَكَّةَ وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا . ثُمَّ تَزَوَّجَ بِالْمَدِينَةِ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ . ¤ ثُمَّ تَزَوَّجَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ السَّكْرَانِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ . ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ - أَسَدُ خُزَيْمَةَ . ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَرَامٍ . ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ وَكَانَ اسْمُهَا هِنْدُ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى . ثُمَّ تَزَوَّجَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ . ثُمَّ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ . وَسَبَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، مِنْ خُزَاعَةَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي هَدَمَ فِيهَا مَنَاةَ ، غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ . وَسَبَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ ، مِنْ بَنِي النَّضِيرِ ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ . وَاسْتَسَرَّ رَيْحَانَةَ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَلَحِقَتْ بِأَهْلِهَا ، وَاحْتَجَبَتْ وَكَانَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا . ، وَطَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ ، وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي عَمْرِو بْنِ كِلَابٍ . وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي الْجَوْنِ الْكِنْدِيَّةَ ; مِنْ أَجْلِ بَيَاضٍ كَانَ بِهَا . وَتُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ خُزَيْمَةَ الْهِلَالِيَّةُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ . وَبَلَغَنَا أَنَّ الْغَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ تَزَوَّجَتْ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَ اللَّهُ نِسَاءَهُ ، وَنَكَحَتِ ابْنِ عَمٍّ لَهَا مِنْ قَوْمِهَا ، وَوَلَدَتْ فِيهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَخْمِيمِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَقَدْ رَوَاهُ مَرَّةً بِاخْتِصَارٍ مَوْقُوفًا عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی وہ آپ سے پہلے عتیق بن عائذ مخزومی کی اہلیہ تھیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے سیدنا خنیس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے سکران بن عمرو کے نکاح میں تھیں ، جن کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے عبدااللہ بن جحش اسدی جن کا تعلق اسد خزیمہ سے ہے ، ان کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ بنت ابوامیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی ، اس خاتون کا نام ہند تھا اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی وہ آپ سے پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابوزرعہ رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق خزاعہ قبیلے کی شاخ بنو مصطلق سے ہے انہیں اس غزوہ میں قیدی بنایا جس غزوے کے دوران آپ نے مناة کو منہدم کیا تھا اور یہ غزوہ مریسیع ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق بنو نضیر سے ہے ، انہیں قیدی بنایا ، یہ خاتون اس میں شامل تھیں ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال فے کے طور پر عطا کی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والی ریحانہ نامی خاتون کو قیدی بنایا ، پھر آپ نے اسے آزاد کر لیا تو وہ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلی گئیں ، انہوں نے حجاب کر لیا اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے پاس ہی رہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالیہ بنت ظبیان نامی خاتون کو طلاق دے دی تھی ، آپ نے بنو عمرو بن کعب سے تعلق رکھنے والی خاتون سے علیحدگی اختیار کی تھی ، آپ نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی خاتون کندیہ سے علیحدگی اختیار کی تھی ، جو ان کے جسم پر پھلبہری کے داغ کی وجہ سے تھی ، سیدہ زینب بنت خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہو گیا تھا ، ہم تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ غالیہ بنت ظبیان نامی خاتون نے اس سے پہلے شادی کر لی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ازواج ( کی کسی اور کے ساتھ شادی ) کو حرام قرار دیتا ، اس خاتون نے اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے چچا زاد کے ساتھ نکاح کیا تھا اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ اخمیمی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اسے ایک مرتبہ اختصار کے ساتھ یحیی بن ابوکثیر پر موقوف روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔