مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَضِيَ عَنْهَا باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ قَطُّ أَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ رَأَيْتُهُ رَكِبَ بِي مِنْ خَيْبَرَ عَلَى عَجْزِ نَاقَتِهِ لَيْلًا ، فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ ، فَيَضْرِبُ رَأْسِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ ، فَيَمَسُّ بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : " يَا هَذِهِ مَهْلًا ، يَا بِنْتَ حُيَيٍّ " . حَتَّى إِذَا جَاءَ الصَّهْبَاءُ قَالَ : " أَمَا إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكِ يَا صَفِيَّةُ مِمَّا صَنَعْتُ بِقَوْمِكِ ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا وَكَذَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الطَّرِيقِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ لَمْ يُدْرِكْ صَفِيَّةَ ، وَفِي رِجَالِ هَذِهِ رَبِيعُ ابْنُ أَخِي صَفِيَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤اس خاتون کے حوالے سے یہ ایک روایت منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھے اخلاق کا مالک کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے خیبر سے مجھے رات کے وقت اپنی اونٹنی کی پشت پر سوار کروایا ، میں اونگھنے لگتی تھی اور میرا سر پالان کے پچھلے حصے سے ٹکرا جاتا تھا ، تو آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے چھو کر یہ فرماتے تھے ، ارے آرام سے اے حیی کی بیٹی ! یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صہباء تشریف لے آئے ، تو آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! میں تمہارے سامنے اس حوالے سے عذر بیان کرتا ہوں ، جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ کیا ، انہوں نے میرے بارے میں یہ یہ کچھ کہا: تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلے طریق کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ حمید بن ہلال نامی راوی نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے رجال میں ربیع نامی راوی ہے جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا بھتیجا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔