حدیث نمبر: 15344
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ : خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَأَرْسَلْتُ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَشِيرُهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا ؟ " . قَالَتْ : وَمَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ؟ قَالَ : " زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ " . قَالَ : فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا شَدِيدًا ، وَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُزَوِّجُ بِنْتَ عَمِّكَ مَوْلَاكَ ؟ قَالَتْ : وَجَاءَتْنِي فَأَعْلَمَتْنِي ، فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا ، وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : ( وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ) . قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأُطِيعُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، أَفْعَلُ مَا رَأَيْتَ ، فَزَوَّجَنِي زَيْدًا ، وَكُنْتُ أَرَنِي [عَلَيْهِ]، فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَاتَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عُدْتُ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي ،[ فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ]فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ ، وَاتَّقِ اللَّهَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أُطَلِّقُهَا . قَالَتْ : فَطَلَّقَنِي ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي ، لَمْ أَعْلَمْ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ دَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا مَكْشُوفَةُ الشَّعْرِ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِلَا خِطْبَةٍ وَلَا شَهَادَةٍ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُ الْمُزَوِّجُ ، وَجِبْرِيلُ الشَّاهِدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : قریش کے کچھ نوجوانوں نے مجھے شادی کے لئے پیغام بھیجا ، میں نے اپنی بہن حمنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : وہ اس شخص سے کہاں غافل ہے جس نے اسے اس کے پروردگار کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی تعلیم دی ہے ، حمنہ نے دریافت کیا : وہ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ ، راوی کہتے ہیں ، تو حمنہ شدید غصے میں آ گئیں اور بولیں یا رسول اللہ ! آپ اپنی چچا زاد کی شادی اپنے غلام سے کریں گے ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حمنہ میرے پاس آئی اور اس نے مجھے اس بارے میں بتایا تو میں اس سے بھی زیادہ شدید غصے میں آ گئی اور میں نے اس سے بھی زیادہ سخت بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لئے اس بارے میں اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ دے دیں تو اس معاملے کے بارے میں ( اس فیصلے کو مسترد کرنے کا ) کوئی اختیار ہو ۔ “ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی ہوں آپ جو مناسب سمجھتے ہیں ویسا کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی زید کے ساتھ کر دی ، میری طرف سے زید کے ساتھ کچھ نامناسب رویہ ہوا تو انہوں نے میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا ، پھر میں نے ایسا کیا اور زبانی طور پر انہیں پریشانی کا شکار کیا تو انہوں نے پھر میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! میں انہیں طلاق دینا چاہتا ہوں ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: انہوں نے مجھے طلاق دے دی ، جب میری عدت ختم ہو گئی تو مجھے پتہ نہیں چلا ، البتہ یہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے بال کھولے ہوئے تھے ۔ میں نے کہا: یہ آسمان کی طرف سے آنے والا فیصلہ تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسی شادی کے پیغام کے بغیر اور کسی گواہ کے بغیر ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ شادی کروانے والا ہے ، اور جبرائیل گواہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے اور وہ متروک ہے اور اس کے بارے میں کمزور توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15344
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (39/24)»