حدیث نمبر: 15279
وَعَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تُكْثِرُ مِنْ ذِكْرِ خَدِيجَةَ ، وَقَدْ أَخْلَفَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ مِنْ عَجُوزٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ ، وَقَدْ هَلَكَتْ فِي دَهْرٍ ؟ ! فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ رَزَقَهَا مِنِّي مَا لَمْ يَرْزُقْ أَحَدًا مِنْكُنَّ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اعْفُ عَنِّي ، وَاللَّهِ لَا تَسْمَعُنِي أَذْكُرُ خَدِيجَةَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرخ ہونٹوں والی بوڑھی عورت کی جگہ آپ کو دوسری بیویاں دے دی ہیں اور اس عورت کو انتقال کیے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر گیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، میں نے آپ کو اس طرح غصے میں کبھی نہیں دیکھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے وہ چیز عطا کی جو تم میں سے کسی کو عطا نہیں کی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ مجھے معاف کر دیں ، اللہ کی قسم ! آج کے دن بعد آپ مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اس حوالے سے ذکر کرتے ہوئے نہیں سنیں گے جو آپ کو ناپسند ہو ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15279
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11/23)»