مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " . يَعْنِي قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ .
سیدنا ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل نے مجھ سے کہا: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موجود ایک گھر کی خوشخبری دے دیں جو کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا اور اس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد کھوکھلا موتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن ابوسمینہ کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔