حدیث نمبر: 15274
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ أَنَّهَا مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْفَرَائِضَ وَالْأَحْكَامَ ؟ قَالَ : " أَبْصَرْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ : هَلْ نَفَعْتُهُ ؟ قَالَ : " أَخْرَجْتُهُ مِنْ جَهَنَّمَ إِلَى ضَحْضَاحٍ مِنْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَخَاصَّةً فِي أَحَادِيثِ جَابِرٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا کیونکہ ان کا انتقال فرائض اور احکام کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہو گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اسے نہر کے کنارے جنت میں موجود کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جناب ابوطالب کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے انہیں کوئی نفع پہنچایا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں انہیں جہنم سے نکال کر اس کے سب سے اوپر والے حصے میں لے کے آیا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں صرف سعید بن مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے خاص طور پر ان احادیث میں کی گئی ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8/23)»