حدیث نمبر: 15273
وَعَنْ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيْنَ أَمُّنَا خَدِيجَةُ ؟ قَالَ : " فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ ، بَيْنَ مَرْيَمَ وَآسِيَةَ " . قَالَتْ : مِنْ هَذَا الْقَصَبُ ؟ قَالَ : " لَا . بَلْ مِنَ الْقَصَبِ الْمَنْظُومِ بِالدُّرِّ وَاللُّؤْلُؤِ وَالْيَاقُوتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُهَاجِرِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْهَا ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَا أَظُنْهُ سَمِعَ مِنْهَا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : ہماری والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موتی سے بنے ہوئے کھوکھلے گھر میں ہے ، جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی وہ مریم اور آسیہ کے درمیان ہیں ۔ “ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اس موتی سے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ ایسے موتی سے ، جس میں قیمتی پتھر اور موتی اور یاقوت پروئے ہوئے ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مہاجر بن میمون کے حوالے سے خاتون سے نقل کی ہے اور میں مہاجر سے واقف نہیں ہوں ، میرا خیال ہے اس نے اس خاتون سے سماع نہیں کیا ہو گا ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15273
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (443)»