حدیث نمبر: 15244
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وُلِدَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ، ثُمَّ زَيْنَبُ ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : الطَّيِّبُ ، وَيُقَالُ لَهُ : الطَّاهِرُ ، وُلِدَ بَعْدَ النُّبُوَّةِ ، وَمَاتَ صَغِيرًا ، ثُمَّ أُمُّ كُلْثُومٍ ، ثُمَّ فَاطِمَةُ ، ثُمَّ رُقَيَّةُ . هَكَذَا الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ . مَاتَ الْقَاسِمُ بِمَكَّةَ ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی جو آپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں ، پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہوئی پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہوئی جنہیں طیب بھی کہا: جاتا ہے ، اور انہیں طاہر بھی کہا: جاتا ہے ، یہ اعلان نبوت کے بعد پیدا ہوئے تھے اور کمسنی میں انتقال کر گئے تھے ، پھر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور پھر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں ، بچوں کی ترتیب یہی ہے ، سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ کا انتقال مکہ میں ہوا تھا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15244
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح