مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحَمَّامِ وَالنُّورَةِ . باب: حمام اور نورہ (یعنی بال صفا پاؤڈر ) کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَرُّ الْبَيْتِ الْحَمَّامُ ; تُرْفَعُ فِيهِ الْأَصْوَاتُ ، وَتُكْشَفُ فِيهِ الْعَوْرَاتُ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُدَاوَى فِيهِ الْمَرِيضُ ، وَيَذْهَبُ الْوَسَخُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَمَنْ دَخْلَهُ فَلَا يَدْخُلْهُ إِلَّا مُسْتَتِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ السَّمْتِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے برا گھر حمام ہے ، جس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ، اور شرمگاہ بے پردہ ہوتی ہے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں بیمار کے لیے بہتری ہوتی ہے اور میں ختم ہو جاتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اُس میں داخل ہو ، وہ پردے کے بغیر داخل نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان سمتی ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔