مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُخْتِهَا أُمِّ كُلْثُومٍ باب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور ان کی بہن اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وَكَانَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، فَفَارَقَهَا ، فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رُقَيَّةَ بِمَكَّةَ ، وَهَاجَرَتْ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللَّهِ ، وَبِهِ كَانَ يُكَنَّى ، وَقَدِمَتْ مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَتَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ عَلَيْهَا بِإِذْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ سُهْمَانِ أَهْلِ بَدْرٍ . قَالَ : وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ بَعْضَهُ ، وَرِجَالُهُمَا إِلَى قَائِلِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی عتبہ بن ابولہب کے نکاح میں تھیں اس نے اس خاتون کو طلاق دے دی پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور انہی صاحبزادے کے حوالے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کنیت اختیار کرتے تھے پھر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ آ گئیں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے ، ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدر کے حصوں کے ہمراہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی حصہ مقرر کیا تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرا اجر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ منقول ہے اور ان دونوں روایات کے قائلین تک ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔