مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحَمَّامِ وَالنُّورَةِ . باب: حمام اور نورہ (یعنی بال صفا پاؤڈر ) کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَمَّامِ فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي حَمَّامَاتٌ ، وَلَا خَيْرَ فِي الْحَمَّامَاتِ لِلنِّسَاءِ " ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا تَدْخُلُهُ بِإِزَارٍ ، فَقَالَ : " لَا ، وَإِنْ دَخَلَتْهُ بِإِزَارٍ وَدِرْعٍ وَخِمَارٍ ، وَمَا مِنَ امْرَأَةٍ تَنْزِعُ خِمَارَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا كَشَفَتِ السِّتْرَ فِيمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمام کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بعد عنقریب حمام ہوں گے ، لیکن عورتوں کے لیے حمام میں بھلائی نہیں ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا عورت تہبند کے ساتھ اُس میں داخل ہو سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! وہ تہبند ، قمیص اور چادر کے ساتھ بھی ( اس میں ) داخل نہیں ہو سکتی ، جو بھی عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ ، اپنی چادر اتارتی ہے ، وہ اپنے اور اپنے پروردگار کے درمیان موجود پردے کو ختم کر دیتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔