حدیث نمبر: 15214
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : عِنْدَكَ فَاطِمَةُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ] فَقَالَ : " مَا حَاجَةُ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : " مَرْحَبًا وَأَهْلًا " . لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا . فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى أُولَئِكَ الرَّهْطِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَنْتَظِرُونَهُ ، فَقَالُوا : مَا وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : مَا أَدْرِي ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ لِي : " مَرْحَبًا وَأَهْلًا " . قَالُوا : يَكْفِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِحْدَاهُمَا ، أَعْطَاكَ الْأَهْلَ وَالْمَرْحَبَ . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَمَا زَوَّجَهُ قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْعَرُوسِ مِنْ وَلِيمَةٍ " . قَالَ سَعْدٌ : عِنْدِي كَبْشٌ ، وَجَمَعَ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ أَصْوُعًا مِنْ ذُرَةٍ ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبِنَاءِ قَالَ : " لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَلْقَانِي " . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ أَفْرَغَهُ عَلَيَّ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمَا ، وَبَارِكْ لَهُمَا فِي بِنَائِهِمَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : لَوْ خَطَبْتَ فَاطِمَةَ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمَا ، وَبَارِكْ لَهُمَا فِي شِيلَهِمَا " . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن ابوطالب کو کیا کام ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں فاطمہ بنت رسول اللہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید ہے ، آپ نے مزید کچھ نہیں فرمایا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے پاس تشریف لے گئے جو ان کا انتظار کر رہے تھے ، ان لوگوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کچھ سمجھ نہیں آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے صرف یہی فرمایا کہ خوش آمدید ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول کے لئے دو الفاظ میں سے ایک ہی استعمال کر لینا آپ کے لئے کافی تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آپ کے لئے دو الفاظ استعمال کیے ہیں ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! شادی کے لئے ولیمہ ضروری ہے ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس ایک دنبہ ہے ، پھر انصار نے ان کے لئے اناج کے کچھ صاع جمع کیے ، جب رخصتی کی رات آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم نے کوئی بات نہیں کرنی جب تک تم مجھ سے نہیں مل لیتے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا ، اس سے وضو کیا پھر آپ نے وہ پانی مجھ پر ڈالا ، پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! ان دونوں میں برکت رکھ دے اور ان دونوں کی شادی میں ان دونوں کے لئے برکت رکھ دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیں تو یہ مناسب ہو گا ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! ان دونوں میں اور ان دونوں کے لئے ان کے ملاپ میں برکت رکھ دے ! ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عبدالکریم بن سلیط کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1407) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1153)»