حدیث نمبر: 15213
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ فَاطِمَةُ تُذْكَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَذْكُرُهَا أَحَدٌ إِلَّا صَدَّ عَنْهُ ، حَتَّى يَئِسُوا مِنْهَا ، فَلَقِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ عَلِيًّا ، فَقَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْبِسُهَا إِلَّا عَلَيْكَ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : فَلِمَ تَرَى ذَلِكَ ؟ [ فَوَاللَّهِ ] مَا أَنَا بِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ : مَا أَنَا بِصَاحِبِ دُنْيَا يَلْتَمِسُ مَا عِنْدِي ، وَقَدْ عَلِمَ مَا لِي صَفْرَاءُ وَلَا بَيْضَاءُ ، وَمَا أَنَا بِالْكَافِرِ الَّذِي يَتَرَفَّقُ بِهَا عَنْ دِينِهِ ! - يَعْنِي يَتَأَلَّفُهُ بِهَا - إِنِّي لَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ ! فَقَالَ سَعْدٌ : إِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتُفَرِّجَنَّهَا عَنِّي ; فَإِنَّ لِي فِي ذَلِكَ فَرَجًا . قَالَ : أَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَ : تَقُولُ : جِئْتُ خَاطِبًا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . [ قَالَ: فَانْطَلَقَ وَهُوَ ثَقِيلٌ حَصِرٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً يَا عَلِيُّ " فَقَالَ : أَجَلْ جِئْتُكَ خَاطِبًا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَرْحَبًا " . كَلِمَةٌ ضَعِيفَةٌ . ثُمَّ رَجَعَ إِلَى سَعْدٍ ، فَقَالَ لَهُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي بِهِ ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَيَّ أَنْ رَحَّبَ بِي كَلِمَةً ضَعِيفَةً . فَقَالَ سَعْدٌ : أَنْكَحَكَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ ، إِنَّهُ لَا خَلْفٌ ، وَلَا كَذِبٌ عِنْدَهُ ، أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَأْتِيَنَّهُ غَدًا ، فَلَتَقُولَنَّ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَتَى تُبْنِينِي ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ : هَذِهِ أَشُدُّ عَلَيَّ مِنَ الْأُولَى ، أَوَّلًا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي ؟ قَالَ : قُلْ كَمَا أَمَرْتُكَ ، فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى تُبْنِينِي ؟ قَالَ : " اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ثُمَّ دَعَا بِلَالًا ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ ابْنَتِي ابْنَ عَمِّي ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مِنْ سُنَّةِ أُمَّتِي الطَّعَامُ عِنْدَ النِّكَاحِ ، فَائِتِ الْغَنَمَ ، فَخُذْ شَاةً وَأَرْبَعَةَ أَمْدَادٍ ، وَاجْعَلْ لِي قَصْعَةً أَجْمَعُ عَلَيْهَا الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ ، فَإِذَا فَرَغْتَ فَآذِنِّي " . فَانْطَلَقَ فَفَعَلَ مَا أَمَرَهُ بِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَطَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَأْسِهَا ، وَقَالَ : " أَدْخِلِ النَّاسَ عَلَيَّ زَفَّةً زَفَّةً ، وَلَا يُغَادِرْنَ زَفَّةً إِلَى غَيْرِهَا " . - يَعْنِي إِذَا فَرَغَتْ زَفَّةٌ فَلَا يَعُودُونَ ثَانِيَةً - . فَجَعَلَ النَّاسُ يَرِدُونَ ، كُلَّمَا فَرَغَتْ زَفَّةٌ وَرَدَتْ أُخْرَى ، حَتَّى فَرَغَ النَّاسُ . ثُمَّ عَمَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَا فَضَلَ مِنْهَا ، فَتَفَلَ فِيهِ وَبَارَكَ ، وَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، احْمِلْهَا إِلَى أُمَّهَاتِكَ ، وَقُلْ لَهُنَّ : كُلْنَ وَأَطْعِمْنَ مَنْ غَشِيَكُنَّ " . ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ : " إِنِّي زَوَّجْتُ بِنْتِي ابْنَ عَمِّي ، وَقَدْ عَلِمْتُنَّ مَنْزِلَتَهَا مِنِّي ، وَأَنَا دَافِعُهَا إِلَيْهِ فَدُونَكُنَّ " . فَقُمْنَ النِّسَاءُ فَغَلَّفْنَهَا مِنْ طِيبِهِنَّ ، وَأَلْبَسْنَهَا مِنْ ثِيَابِهِنَّ ، وَحَلَّيْنَهَا مِنْ حُلِيِّهِنَّ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ ، فَلَمَّا رَأَيْنَهُ النِّسَاءُ ذَهَبْنَ ، وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتْرٌ ، وَتَخَلَّفَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى رِسْلِكِ ، مَنْ أَنْتِ ؟ " . قَالَتْ : أَنَا الَّتِي أَحْرُسُ ابْنَتَكَ ، إِنَّ الْفَتَاةَ لَيْلَةَ بِنَائِهَا لَا بُدَّ لَهَا مِنِ امْرَأَةٍ [ تَكُونُ ] قَرِيبَةٍ مِنْهَا ، إِنْ عَرَضَتْ لَهَا حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَتْ أَمْرًا أَفْضَتْ بِذَلِكَ إِلَيْهَا . قَالَ : " فَإِنِّي أَسَالُ إِلَهِي أَنْ يَحْرُسَكِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْكِ وَمِنْ خَلْفِكِ ، وَعَنْ يَمِينِكِ وَعَنْ شِمَالِكِ ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . ثُمَّ صَرَخَ بِفَاطِمَةَ فَأَقْبَلَتْ ، فَلَمَّا رَأَتْ عَلِيًّا جَالِسًا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ حَصَرَتْ ] بَكَتْ ، فَخَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ بُكَاؤُهَا أَنَّ عَلِيًّا لَا مَالَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكِ ؟ مَا أَلَوْتُكِ فِي نَفْسِي ، وَقَدْ أَصَبْتُ لَكِ خَيْرَ أَهْلِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ زَوَّجْتُكِ سَعِيدًا فِي الدُّنْيَا ، وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لِمَنِ الصَّالِحِينَ " . فَلَانَ مِنْهَا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَسْمَاءُ ، ائْتِينِي بِالْمِخْضَبِ [ فَامْلَئِيهِ مَاءً ] " . فَأَتَتْ أَسْمَاءُ بِالْمِخْضَبِ ، فَمَجَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ ، وَمَسَحَ فِي وَجْهِهِ وَقَدَمَيْهِ ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى رَأْسِهَا ، وَكَفًّا بَيْنَ ثَدْيَيْهَا ، ثُمَّ رَشَّ جِلْدَهُ وَجِلْدَهَا ، ثُمَّ الْتَزَمَهَا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّهَا مِنِّي وَإِنِّي مِنْهَا ، اللَّهُمَّ كَمَا أَذْهَبْتَ عَنِّي الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَنِي فَطَهِّرْهُمَا " . ثُمَّ دَعَا بِمِخْضَبٍ آخَرَ ، ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا ، فَصَنَعَ بِهِ كَمَا صَنَعَ بِهَا ، ثُمَّ دَعَا لَهُ كَمَا دَعَا لَهَا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : " قُومَا إِلَى بَيْتِكُمَا ، جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَكُمَا [ وَبَارَكَ ] فِي سِرِّكُمَا ، وَأَصْلَحَ بَالَكُمَا " . ثُمَّ قَامَ وَأَغْلَقَ عَلَيْهِمَا بَابَهُمَا بِيَدِهِ . ¤ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - : فَأَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَزَلْ يَدْعُو لَهُمَا خَاصَّةً ، لَا يُشْرِكُهُمَا فِي دُعَائِهِ أَحَدًا حَتَّى تَوَارَى فِي حُجْرَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے لئے پیغام دیا جاتا تھا ، جس بھی شخص نے اس حوالے سے ذکر کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ لوگ اس حوالے سے مایوس ہو گئے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اس خاتون کی شادی کرنا چاہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا آپ کی یہ رائے کس وجہ سے بنی ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں دو میں سے کسی بھی ایک طرح کا نہیں ہوں نہ تو میرے پاس دنیاوی ساز و سامان ہے جو ساز و سامان میرے پاس ہو ، اسے حاصل کرنے کی خواہش کی جائے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے ہیں کہ میرے پاس نہ دینار ہیں نہ درہم ہیں اور نہ ہی میں وہ کافر شخص ہوں کہ جس کے دین کے حوالے سے نرمی کی جائے ، یعنی تالیف قلب کے لئے ایسا کیا جائے ، میں اسلام قبول کرنے والا پہلا فرد ہوں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ یہ کام کریں کیونکہ میری یہ خواہش ہے کہ ایسا ہو ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : میں کیا کہوں ؟ انہوں نے کہا: میں یہ کہیں کہ آپ اللہ اور اس کے رسول کے پاس فاطمہ بنت محمد کے ساتھ شادی کا پیغام لے کے آیا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ان کو مشکل محسوس ہو رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے علی ! لگتا ہے تمہیں کوئی کام ہے ، انہوں نے عرض کی جی ہاں ، میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ اللہ اور اس کے رسول کو فاطمہ بنت محمد کے ساتھ شادی کا پیغام دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید ! یہ ایک مبہم جملہ تھا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے مجھے جو کام کہا: تھا وہ میں نے کر دیا ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھے صرف خوش آمدید کہا: ہے جو ایک مبہم جملہ ہے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ شادی کروا دیں گے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی وعدہ خلافی نہیں کی اور نہ ہی غلط بیانی کی ہے ، میں آپ کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ کل آپ نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا ہے ، اور یہ کہنا ہے ، اے اللہ کے نبی آپ رخصتی کب کروائیں گے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، یہ والی بات میرے نزدیک پہلے والی بات سے بھی زیادہ مشکل تھی ، انہوں نے کہا: کیا میں یہ نہ کہوں کہ یا رسول اللہ میرے کام کا کیا بنا ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے وہی کہنا ہے جو میں نے آپ کو کہا: ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اگلے دن گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے ہاں رخصتی کب کروائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو آج رات کو ، پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے بلال ! میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے چچا زاد سے کر رہا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ میری امت کا طریقہ یہ ہو کہ نکاح کے وقت کھانا کھلایا جائے ، تو تم بکریوں والے ہو ، تم بکری لو چار ، مد اناج لو اور میرے لئے ایک پیالے میں کھانا تیار کرو تاکہ میں مہاجرین اور انصار کو وہ کھانا کھلاؤں ، جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ چلے گئے ، انہوں نے وہ کام کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا ، پھر وہ اس پیالے کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کو رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرے پر ہاتھ لگایا اور پھر فرمایا : میرے پاس لوگوں کو گروہ در گروہ کر کے لے کر آتے رہو ، اور جب ایک گروہ ختم ہو جائے تو پھر دوسرا آ جائے ، کوئی دوسری مرتبہ نہ آئے ، تو لوگ آنے لگے ، جب ایک گروہ فارغ ہو جاتا ، تو دوسرا آ جاتا ، یہاں تک کہ سب لوگ فارغ ہو گئے ، پھر جو کھانا بچا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لیا ، اس میں لعاب دہن ڈالا ، اس میں برکت کی دعا کی ، اور پھر فرمایا : اے بلال ! اسے اٹھا کر اپنی ماؤں کے پاس لے جاؤ اور ان سے یہ کہنا کہ اسے خود بھی کھاؤ اور جو تمہارے ہاں آئے اسے بھی کھلاؤ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے گئے آپ نے فرمایا : میں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے چچا زاد کے ساتھ کر دی ہے ، اور تم یہ جانتی ہو کہ اس بیٹی کی میرے نزدیک کتنی حیثیت ہے ، اب میں اس کی رخصتی کروانے لگا ہوں تو تم نے بھی شامل ہونا ہے ، تو وہ خواتین اٹھیں ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خوشبو لگائی ، انہیں لباس پہنایا انہیں زیور پہنایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، جب خواتین نے آپ کو دیکھا تو وہ چلی گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان پردہ تھا ، صرف اسماء بنت عمیس رہ گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا تم کون ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں وہ ہوں جو آپ کی صاحبزادی کی حفاظت کروں گی جب لڑکی کی رخصتی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ کوئی عورت ہونی چاہیے جو اس کے قریب رہے تاکہ اگر اس لڑکی کو کوئی کام درپیش ہو یا کوئی چیز چاہیے ہو تو وہ چیز اسے پکڑا سکے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے معبود سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہارے آگے کی طرف سے تمہارے دائیں طرف سے تمہارے بائیں طرف سے مردود شیطان سے تمہاری بھی اسی طرح حفاظت کرے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکارا ، وہ آئیں جب انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے دیکھا تو وہ شرما گئیں اور رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ شاید اس وجہ سے رو رہی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں رو رہی ہو ، میں نے تمہارے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ، میں نے تمہارے لئے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے بہتر فرد کو منتخب کیا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میں نے تمہاری شادی اس شخص سے کی ہے جو دنیا میں سعادت مند ہے اور آخرت میں نیک لوگوں میں سے ایک ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تسلی دی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اسماء میرے پاس ایک برتن لے کے آؤ ، اسے پانی سے بھر دینا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ایک برتن لے کے آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں پاؤں پر ہاتھ پھیرا پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا ، آپ نے چلو میں پانی لے کر وہ ان کے سر پر ڈالا اور ان کے سینے پر ڈالا اور ان کی جلد پر ڈالا ، پھر انہیں نے اپنے ساتھ لپٹا لیا ، پھر آپ نے یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! میں اس سے ہوں ، اے اللہ ! جس طرح تو نے مجھ سے گندگی کو دور کیا ہے اور مجھے پاک کیا ہے ، تو ان دونوں کو بھی پاک کر دے ، پھر آپ نے پانی کا ایک اور برتن منگوایا پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جس طرح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا تھا ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح دعا دی جس طرح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دعا دی تھی ، پھر آپ نے ان دونوں کو فرمایا : تم دونوں اٹھ کر اپنے گھر چلے جاؤ ، اللہ تعالیٰ تم دونوں کو ایک ساتھ رکھے ، تمہارے پوشیدہ معاملات میں برکت رکھے ، تمہارے کام ٹھیک کرے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ نے ان دونوں کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بغور جائزہ لیتی رہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں داخل ہونے تک مسلسل بطور خاص ان دونوں کے لئے دعا کرتے رہے ، آپ نے اس دعا میں کسی اور کو ان دونوں کے ساتھ شریک نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15213
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (410/22)»