حدیث نمبر: 15205
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ ، فَقَامَتْ بِحِذَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَابِلَهُ ، فَقَالَ : " ادْنِي يَا فَاطِمَةُ " . فَدَنَتْ دَنْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : " ادْنِي يَا فَاطِمَةُ " . فَدَنَتْ دَنْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : " ادْنِي يَا فَاطِمَةُ " . فَدَنَتْ دَنْوَةً حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ . قَالَ عِمْرَانُ : فَرَأَيْتُ صُفْرَةً قَدْ ظَهَرَتْ عَلَى وَجْهِهَا ، وَذَهَبَ الدَّمُ ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ تَرَائِبِهَا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ مُشْبِعَ الْجَوْعَةِ ، وَقَاضِي الْحَاجَةِ ، وَرَافِعَ الْوَضَعَةِ ، لَا تُجِعْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ " . فَرَأَيْتُ صُفْرَةَ الْجُوعِ قَدْ ذَهَبَتْ عَنْ وَجْهِهَا وَظَهَرَ الدَّمُ ، ثُمَّ سَأَلْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : مَا جُعْتُ بَعْدَ ذَلِكَ يَا عِمْرَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ قریب آ گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ مزید قریب آ گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ اور قریب آ گئیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو گئیں ۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ان کے چہرے پر زردی دیکھی ، ان کا خون کم ہو چکا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں بڑھائیں اور پھر اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا ، پھر آپ نے سر اٹھا کر یہ دعا کی : ” اے اللہ ! بھوک کو ختم کرنے والے ! حاجت کو پوری کرنے والے ! پست کو بلندی عطا کرنے والے ! تو فاطمہ بنت محمد کو بھوکا نہ رکھ ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے سے بھوک کی زردی ختم ہو گئی اور خون ظاہر ہوا ، اس کے بعد میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : اے عمران ! اس کے بعد مجھے کبھی بھوک محسوس نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن حمید ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن