حدیث نمبر: 15195
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَهُمَا يَضْحَكَانِ ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتَا ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَمَا ، كُنْتُمَا تَضْحَكَانِ فَلَمَّا رَأَيْتُمَانِي سَكَتُّمَا ؟ " . فَبَادَرَتْ فَاطِمَةُ ، فَقَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ هَذَا : أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكِ ، فَقُلْتُ : بَلْ أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكَ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، لَكِ رِقَّةُ الْوَلَدِ ، وَعَلِيٌّ أَعِزُّ عَلَيَّ مِنْكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ۔ وہ دونوں ہنس رہے تھے جب ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے تم لوگ پہلے ہنس رہے تھے جب تم دونوں نے مجھے دیکھا تو تم دونوں خاموش ہو گئے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بات میں پہل کی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، ان کا ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ) یہ کہنا ہے کہ میں تم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہوں اور میرا یہ کہنا ہے کہ بلکہ میں اللہ کے رسول کی آپ سے زیادہ محبوب ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تمہارے لیے وہ محبت ہے ، جو اولاد کے لئے ہوتی ہے ، اور علی میرے نزدیک تم سے زیادہ قابل احترام ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15195
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11063)»