مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ سَفِيانٍ قَالَ : قَلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ : رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ؟ قَالَ : أَسُودُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ ، إِلَّا شَعَرَاتٍ هَاهُنَا فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ ، فَلَا أَدْرِي أَخَضَبَ وَتَرَكَ ذَلِكَ الْمَكَانَ تَشَبُّهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ لَمْ يَكُنْ شَابَ مِنْهُ غَيْرُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : وَرَأَيْتُ حَسَنًا وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَسَجَدَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَبَيْنَ بَعْضِ النَّاسِ ، فَقِيلَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَقَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
سفیان بیان کرتے ہیں : میں نے عبیداللہ بن ابویزید سے دریافت کیا ، تم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ؟ اس نے بتایا : ان کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے صرف یہاں پر داڑھی کے آگے والی طرف کچھ بال سفید تھے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے خضاب لگایا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے اس جگہ کو ( بغیر خضاب کے ) چھوڑ دیا تھا یا اس کے علاوہ ان کا کوئی اور بال سفید ہی نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا نماز کھڑی ہو گئی ، تو انہوں نے امام اور کچھ لوگوں کے درمیان سجدہ کیا ان سے کہا: گیا آپ بیٹھ جائیں تو انہوں نے کہا: نماز کھڑی ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔