مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ أَوْسَعَ لَهُ النَّاسُ ، وَالْفَرَزْدَقُ بْنُ غَالِبٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : [ أَبَا ] فِرَاسُ ، مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ : ¤ هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتُهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ كُلِّهِمُ ¤ هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانُ رَاحَتِهِ ¤ وَرُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا ¤ إِلَى مَكَارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرَمُ يُفْضِي حَيَاءً وَيُفْضِي مِنْ مَهَابَتِهِ ¤ فَلَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبِقُ ¤ بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَبْعَتُهُ ¤ طَابَتْ عَنَاصِرُهُ وَالْخِيَمُ وَالشِّيَمُ لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بُعْدَ غَايَتِهِمْ ¤ وَلَا يُدَانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرِمُوا أَيُّ الْعَشَائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ ¤ لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوَّلُهُ نَعَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سلیمان بن ہیثم بیان کرتے ہیں : امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کرنے کا ارادہ کیا ، تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ بنا دی ۔ فرزدق نامی شاعر یہ منظر دیکھ رہا تھا کسی شخص نے کہا: اے ابوفراس ! یہ کون صاحب ہیں ؟ تو فرزدق نے یہ اشعار کہے : ” یہ وہ ہیں جن کی چاپ کو بطحاء کی وادی پہچانتی ہے ، بیت اللہ ، حل اور حرم ( کے علاقے ) انہیں پہچانتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے زیادہ بہتر ہستی کے صاحبزادے ہیں ، یہ پرہیزگار ہیں ، صاف ستھرے ہیں ، پاک ہیں ، نمایاں ہیں ، ممکن ہے کہ ان کے استلام کرنے کے وقت ، ان کی ہتھیلی کو پہچان کر ، حطیم کا کونہ ان کو تھام لے ، قریش نے جب ان کو دیکھا تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا: ان کی کرم نوازی پر آ کر ، کرم ختم ہو جاتا ہے ، یہ حیا کی وجہ سے نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں اور ان کی ہیبت کی وجہ سے دوسروں کی نگاہیں ( ان کے آگے ) جھکی رہتی ہیں ، تو ان کے ساتھ کلام صرف اس وقت کیا جاتا ہے ، جب یہ مسکرا دیتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں خیزران ( نامی درخت کی چھڑی ) ہے ، ان کی خوشبو بہترین ہے اور ان کی ہتھیلی کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوصاف حاصل کیے ہیں ، ان کے عناصر اور ان کی خوبو پاکیزہ ہے ، کوئی تیز رفتار ، ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ، اور کوئی بھی قوم ، خواہ وہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو ، ان کے قریب نہیں پہنچ سکتی ، کون سا خاندان ایسا ہے ، جس کی گردن میں ان کی اولیت اور ان کے احسان کا پٹہ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔