❮
❯
حدیث نمبر: 15185
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ أَوْسَعَ لَهُ النَّاسُ ، وَالْفَرَزْدَقُ بْنُ غَالِبٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : [ أَبَا ] فِرَاسُ ، مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ :
هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتُهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ كُلِّهِمُ
هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانُ رَاحَتِهِ
وَرُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا
إِلَى مَكَارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرَمُ يُفْضِي حَيَاءً وَيُفْضِي مِنْ مَهَابَتِهِ
فَلَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبِقُ
بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَبْعَتُهُ
طَابَتْ عَنَاصِرُهُ وَالْخِيَمُ وَالشِّيَمُ لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بُعْدَ غَايَتِهِمْ
وَلَا يُدَانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرِمُوا أَيُّ الْعَشَائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ
لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوَّلُهُ نَعَمُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین

سلیمان بن ہیثم بیان کرتے ہیں : امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کرنے کا ارادہ کیا ، تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ بنا دی ۔ فرزدق نامی شاعر یہ منظر دیکھ رہا تھا کسی شخص نے کہا: اے ابوفراس ! یہ کون صاحب ہیں ؟ تو فرزدق نے یہ اشعار کہے : ” یہ وہ ہیں جن کی چاپ کو بطحاء کی وادی پہچانتی ہے ، بیت اللہ ، حل اور حرم ( کے علاقے ) انہیں پہچانتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے زیادہ بہتر ہستی کے صاحبزادے ہیں ، یہ پرہیزگار ہیں ، صاف ستھرے ہیں ، پاک ہیں ، نمایاں ہیں ، ممکن ہے کہ ان کے استلام کرنے کے وقت ، ان کی ہتھیلی کو پہچان کر ، حطیم کا کونہ ان کو تھام لے ، قریش نے جب ان کو دیکھا تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا: ان کی کرم نوازی پر آ کر ، کرم ختم ہو جاتا ہے ، یہ حیا کی وجہ سے نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں اور ان کی ہیبت کی وجہ سے دوسروں کی نگاہیں ( ان کے آگے ) جھکی رہتی ہیں ، تو ان کے ساتھ کلام صرف اس وقت کیا جاتا ہے ، جب یہ مسکرا دیتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں خیزران ( نامی درخت کی چھڑی ) ہے ، ان کی خوشبو بہترین ہے اور ان کی ہتھیلی کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوصاف حاصل کیے ہیں ، ان کے عناصر اور ان کی خوبو پاکیزہ ہے ، کوئی تیز رفتار ، ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ، اور کوئی بھی قوم ، خواہ وہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو ، ان کے قریب نہیں پہنچ سکتی ، کون سا خاندان ایسا ہے ، جس کی گردن میں ان کی اولیت اور ان کے احسان کا پٹہ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15185
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2800)»