مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحَمَّامِ وَالنُّورَةِ . باب: حمام اور نورہ (یعنی بال صفا پاؤڈر ) کا بیان
حدیث نمبر: 1517
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ ؟ " . فَقُلْتُ : مِنَ الْحَمَّامِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّهَاتِهَا إِلَّا وَهِيَ هَاتِكَةٌ كُلَّ سِتْرٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیده ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں حمام سے نکلی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے دریافت کیا : اے ام درداء ! تم کہاں سے آ رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : حمام سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جو بھی عورت اپنی ماؤں میں سے کسی ایک کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے اتارتی ہے ، تو وہ اپنے اور رحمن کے درمیان موجود ، ہر پردے کو پھاڑ دیتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔