حدیث نمبر: 15155
وَعَنْ حُمَيْدٍ الطَّحَّانِ قَالَ : كُنْتُ فِي خُزَاعَةَ ، فَجَاءُوا بِشَيْءٍ مِنْ تَرِكَةِ الْحُسَيْنِ ، فَقِيلَ لَهُمْ : نَنْحَرُ أَوْ نَبِيعُ فَنُقَسِّمُ . قَالَ : انْحَرُوا ، فَجَلَسْتُ عَلَى جَفْنَةٍ ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فَارَتْ نَارًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

حمید ملحان بیان کرتے ہیں : میں خزاعہ قبیلے میں موجود تھا وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے چھوڑے گئے سامان میں سے کچھ چیزیں لے کے آئے ، ان سے کہا: گیا ہمیں ان کو قربان کر دینا چاہیے یا انہیں فروخت کر کے مال تقسیم کر لینا چاہیے ، انہوں نے کہا: ان کو قربان کر دو ، میں ہنڈیا کے پاس بیٹھ گیا ، جب میں نے اسے رکھا تو اس میں آگ بھڑک اٹھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2863)»