مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، وَإِذَا رَأَسُ الْحُسَيْنِ قُدَّامَهُ عَلَى تُرْسٍ ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ ، فَإِذَا بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى تُرْسٍ ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَإِذَا رَأَسُ الْمُخْتَارِ عَلَى تُرْسٍ ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَإِذَا رَأَسُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَلَى تُرْسٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : مَا كَانَ لِهَؤُلَاءِ عَمَلٌ إِلَّا الرُّءُوسُ . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس آیا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اس کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ۔ اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مختار کے پاس آیا تو عبیداللہ بن زیاد کا سر مختار کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ، اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو مختار کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ، اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں عبدالملک کے پاس آیا تو مصعب بن زبیر کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ سلوک صرف ان بڑوں کے ساتھ ہی کیا گیا تھا ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔