مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِالْحُسَيْنِ ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ ، وَقَامَ فِي أَصْحَابِهِ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ ، وَإِنَّ الدُّنْيَا تَغَيَّرَتْ وَتَنَكَّرَتْ ، وَأَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا وَانْشَمَرَ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صَبَابَةُ الْإِنَاءِ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالْمَرْعَى الْوَبِيلِ ، أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ ، وَالْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ ؟ لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللَّهِ ; فَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً ، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَمًا . وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ ، بِالطَّفِّ بِكَرْبَلَاءَ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ ، وَهُوَ صَابِغٌ بِالسَّوَادِ ، وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَخَمْسِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ ، مَتْرُوكٌ وَلَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤محمد بن حسن بیان کرتے ہیں : جب عمر بن سعد نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں پڑاؤ کیا اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ وہ لوگ انہیں شہید کر دیں گے ، تو وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” جس طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو ، دنیا تبدیل ہو گئی ہے ، اور ناشناسا ہو گئی ہے اس کی بھلائی رخصت ہو گئی ہے ، اور اس نے تیزی سے منہ موڑ لیا ، یہاں تک کہ اس میں سے صرف وہ ( گدلا پن ) باقی رہ گیا ہے ، جو برتن میں تلچھٹ ہوتی ہے ، کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ نہیں سمجھتے ہو کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا ، اور باطل سے نہیں روکا جائے گا تاکہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی رغبت دلائی جائے ، میں تو موت کو سعادت سمجھتا ہوں اور ظالموں کے ساتھ رہنے کو بربادی سمجھتا ہوں ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) امام حسین رضی اللہ عنہ کو عاشورہ کے دن ” طف “ کے مقام پر شہید کیا گیا ، ان کے جسم پر اون کا بنا ہوا جبہ تھا ، انہوں نے سیاہ رنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر چھپن برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی اس راوی سے مراد ابن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ، اس نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔