مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : كُنْتُ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ السَّلَامَ ، وَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، ثُمَّ رَفَعَ ابْنُ عَمْرٍو صَوْتَهُ بَعْدَمَا سَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ؟ قَالُوا : بَلَى . قَالَ : هُوَ هَذَا الْمُقَفِّي ، وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ كَلِمَةً وَلَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً مُنْذُ لَيَالِي صِفِّينَ ، وَوَاللَّهِ لَأَنْ يَرْضَى عَنِّي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ أَحَدٍ . فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ : أَلَا تَغْدُو إِلَيْهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، فَتَوَاعَدُوا أَنْ يَغْدُوَا إِلَيْهِ ، وَغَدَوْتُ مَعَهُمَا ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَذِنَ فَدَخَلْنَا إِلَّا ابْنَ عَمْرٍو ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ الْحُسَيْنُ ، فَدَخَلَ ، فَلَمَّا رَآهُ زَحَلَ لَهُ ، وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِ الْحُسَيْنِ فَمَدَّهُ الْحُسَيْنُ إِلَيْهِ ، فَقَامَ ابْنُ عَمْرٍو فَلَمْ يَجْلِسْ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ خَلَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَأَزْحَلَ لَهُ ، فَجَلَسَ بَيْنَهُمَا ، فَقَصَّ أَبُو سَعِيدٍ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : أَكَذَاكَ يَا ابْنَ عَمْرٍو ؟ أَتَعْلَمُ أَنِّي أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِنَّكَ لَأَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ . قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قَاتَلَتَنِي وَأَبِي يَوْمَ صِفِّينَ ؟ وَاللَّهِ لَأَبِي خَيْرٌ مِنِّي . قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّ عَمْرًا شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنْ عَبْدَ اللَّهِ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ وَنَمْ ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَأَطِعْ عَمْرًا " . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ ، أَقْسَمَ عَلَيَّ ، وَاللَّهِ مَا كَثَّرْتُ لَهُمْ سَوَادًا ، وَلَا اخْتَرَطْتُ لَهُمْ سَيْفًا ، وَلَا طَعَنْتُ بِرُمْحٍ ، وَلَا رَمَيْتُ بِسَهْمٍ . فَقَالَ الْحَسَنُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : كَأَنَّهُ قَبِلَ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ لِينٌ ، وَهُوَ حَافِظٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنَ الْبَزَّارِ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤رجاء بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں موجود تھا ، اسی دوران سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما وہاں سے گزرے ، انہوں نے سلام کیا ، حاضرین نے انہیں سلام کا جواب دیا ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے خاموش ہونے کے بعد آواز بلند کی اور بولے : آپ پر بھی سلام ہو ، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، پھر وہ حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : کیا میں تمہیں یہ بات نہ بتاؤں کہ اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ، تو انہوں نے فرمایا : یہ والے صاحب جو ابھی چلے گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! جنگ صفین کے بعد سے لے کر ابھی تک میں نے ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور اللہ کی قسم ! اگر یہ مجھ سے راضی ہو جائیں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ مجھے احد پہاڑ جتنی دولت مل جائے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ان کی طرف چلیں گے ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر انہوں نے یہ طے کیا کہ اگلے دن وہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں صاحبان کے ساتھ میں بھی گیا ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی ، ہم لوگ اندر داخل ہوئے ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اندر داخل نہیں ہوئے وہ باہر ہی رہے ، یہاں تک کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی اجازت دی تو وہ اندر آئے ، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان کے لئے جگہ کی اور وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آ کے بیٹھ گئے ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف نگاہ کی ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے وہ بیٹھے نہیں تھے ، جب انہوں نے دیکھا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہٹ کے ان کے لئے جگہ بنائی اور وہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے ۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ بیان کیا ، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے ابن عمرو ! کیا اسی طرح ہے ؟ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہوں ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! رب کعبہ کی قسم ! آپ اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ نے جنگ صفین کے موقع پر میرے والد کے ساتھ جنگ کیوں کی تھی ، اللہ کی قسم ! میرے والد مجھ سے بہتر ہیں ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور یہ کہا: عبداللہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رات کے وقت نفل پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو ، نفلی روزہ رکھا بھی کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو ، اور عمرو کی بات ماننا ۔ جب جنگ صفین کا موقع آیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دی اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے ان لوگوں کے لئے تلوار کو سونتا ، نہ ہی ان کی خاطر نیزے کے ذریعے حملہ کیا ، نہ ان کی خاطر کوئی تیر پھینکا ، تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاتی ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : گویا انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اس بات کو قبول کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اور وہ حافظ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حالات میں امام بزار کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔