حدیث نمبر: 15101
عَنْ أَبِي شَدَّادٍ قَالَ : كُنْتُ أُلَاعِبُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ بِالْمَدَاحِي ، فَإِذَا مَادَحَّانِي رَكِبَانِي ، وَإِذَا مَا دَحْتُهُمَا قَالَا : تَرْكَبُ بَضْعَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَبُو شَدَّادٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوشداد بیان کرتے ہیں : میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مداحی کھیلتا تھا ، جب وہ دونوں صاحبان مجھ سے جیت جاتے تھے تو وہ دونوں مجھ پر سوار ہو جاتے تھے اور جب میں ان دونوں سے جیت جاتا تھا تو وہ دونوں کہتے تھے : تم اللہ کے رسول کے ٹکڑے پر سوار ہو جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ابوشداد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، دو میں سے ایک سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2595)»