مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي حَقِّ اللَّهِ - تَعَالَى - عَلَى الْعِبَادِ . باب: بندوں پر ، اللہ تعالیٰ کے حق کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ قَالَ : " أَرْبَعُ خِصَالٍ : وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لِي ، وَوَاحِدَةٌ لَكَ ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي ; فَأَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ عَلَيَّ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ جَزَيْتُكَ بِهِ ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَمِنْكَ الدُّعَاءُ وَعَلَيَّ الْإِجَابَةُ ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي فَارْضَ لَهُمْ مَا تَرْضَى لِنَفْسِكَ " . ¤ هَذَا لَفْظُ أَبِي يَعْلَى ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَتَدْلِيسُ الْحَسَنِ أَيْضًا . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ( حدیث قدسی میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار چیزیں ہیں ، جن میں سے ایک میرے لئے ہے ( اے بندے ! ) ایک تمہارے لئے ہے ، ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے ، اور ایک تمہارے اور میرے ( دوسرے ) بندوں کے درمیان ہے ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے لئے ہے ، تو وہ یہ ہے کہ تم میری عبادت کرو اور کسی کو میرا شریک قرار نہ دو ، جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے جو میرے ذمہ لازم ہے ( یعنی جو تمہارے لیے ہے ) وہ یہ ہے کہ تم جو بھی بھلائی کرو گے ، میں تمہیں اُس کی جزا دوں گا جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے ، جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ، تو وہ یہ ہے : کہ دعا تمہاری طرف سے ہو گی اور اُسے قبول کرنا میرے ذمہ ہو گا ، جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے ، جو تمہارے اور میرے دوسرے بندوں کے درمیان ہے ، تو وہ یہ ہے کہ تم اُن کے لیے اسی چیز سے راضی رہو ، جس چیز سے تم اپنے لیے راضی ہوتے ہو“ ۔
روایت کے یہ الفاظ امام ابویعلیٰ کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت میں حسن نامی راوی کی ” تدلیس “ بھی ہے ۔