حدیث نمبر: 152
وَعَنْ سَلْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، ثَلَاثَةٌ خِصَالٍ : وَاحِدَةٌ لِي ، وَوَاحِدَةٌ لَكَ ، وَوَاحِدَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ; فَأَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ عَمَلٍ جَزَيْتُكَ بِهِ ، فَإِنْ أَغْفِرْ فَأَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَعَلَيْكَ الدُّعَاءُ وَعَلَيَّ الِاسْتِجَابَةُ وَالْعَطَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، لَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ ( حدیث قدسی میں ) فرماتا ہے : ” اے انسان ! تین خصائل ہیں ، ایک میرے لیے ہے ، ایک تمہارے لئے ہے ، اور ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے جہاں تک اُس کا تعلق ہے ، جو میرے لئے ہے ، تو وہ یہ ہے : کہ تم میری عبادت کرو ، اور کسی کو میرا شریک قرار نہ دو ، جہاں تک اُس کا تعلق ہے ، جو تمہارے لئے ہے ، تو وہ یہ ہے : کہ تم جو بھی عمل کرو گے ، میں تمہیں اس کی جزا دوں گا اور اگر میں مغفرت کر دوں ، تو میں مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہوں ، جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے ، جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ، تو تم پر دعا کرنا لازم ہے ، اور اس کو قبول کرنا اور عطا کرنا ، میرے ذمہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ربیع ہے ، جسے کئی حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن وہ ” تدلیس “ کرنے والا ہے اور اُس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 152
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6137»