مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي حَقِّ اللَّهِ - تَعَالَى - عَلَى الْعِبَادِ . باب: بندوں پر ، اللہ تعالیٰ کے حق کا بیان
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ - تَعَالَى - إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " يَغْفِرُ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَسِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ ، وَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ حُذَيْفَةَ أَمْ لَا . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سواری پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! کیا تم جانتے ہو ؟ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ وہ ( بندے ) اُس کی عبادت کریں اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر آپ نے فرمایا : اے حذیفہ ! امین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ کہ جب بندے ایسا کر لیں ، تو اُن کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ وہ اُن کی مغفرت کر دے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، سماک بن ولید نامی راوی ، تابعی ہے اور ثقہ ہے ، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اُس نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، یا نہیں کیا ہے ؟