حدیث نمبر: 15099
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، فَقَالَتْ : هَذَانِ ابْنَاكَ ; فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا . فَقَالَ لَهَا : " أَمَّا حَسَنٌ فَلَهُ ثَبَاتِي وَسُؤْدُدِي ، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَإِنَّ لَهُ حَزَامَتَيْ وُجُودِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، یہ اس بیماری کی بات ہے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ دونوں آپ کے دو بیٹے ہیں ، آپ انہیں وراثت میں کوئی چیز دے دیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، تو اسے میری ثابت قدمی اور میری سرداری ملے گی اور جہاں تک حسین کا تعلق ہے ، تو اسے میری مضبوطی اور میری سخاوت ملے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15099
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف