مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ . باب: اس چیز کا بیان ، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا : أَنَّ مَرْوَانَ أَتَاهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا وَجَدْتُ عَلَيْكَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ اصْطَحَبْنَا إِلَّا فِي حُبِّكَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، قَالَ : فَتَحَفَّزَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَجَلَسَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ ، وَهَمَا مَعَ أُمِّهِمَا ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَتَاهُمَا ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَا شَأْنُ ابْنَيَّ ؟ " . فَقَالَتْ : الْعَطَشُ ، قَالَ : فَأَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَنَّةٍ يَبْتَغِي فِيهَا مَاءً ، وَكَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أَغْدَارًا ، وَالنَّاسُ يُرِيدُونَ الْمَاءَ ، فَنَادَى : " هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَهُ مَاءٌ ؟ " . فَلَمْ يُبْقِ أَحَدٌ إِلَّا أَخْلَفَ بِيَدِهِ إِلَى كَلَامِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّةٍ ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَاوِلِينِي أَحَدَهُمَا " . فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ ذِرَاعَيْهَا حِينَ نَاوَلَتْهُ ، فَأَخَذَهُ ، فَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَضْغُو مَا يَسْكُتُ ، فَأَدْلَعَ لِسَانَهُ ، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّى هَدَأَ أَوْ سَكَنَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ بُكَاءً ، وَالْآخَرُ يَبْكِي كَمَا هُوَ مَا يَسْكُتُ ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلِينِي الْآخَرَ " . فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ ، فَفَعَلَ بِهِ كَذَلِكَ ، فَسَكَتَا فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُمَا صَوْتًا ، ثُمَّ قَالَ : " سِيرُوا " . فَصَدَعْنَا يَمِينًا وَشِمَالًا عَنِ الظَّعَائِنِ ، حَتَّى لَقِينَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، فَأَنَا لَا أُحِبُّ هَذَيْنِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی اس بیماری کے دوران ، جس میں ان کا انتقال ہوا ، مروان ان کے پاس آیا ، مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے آپ پر کسی چیز کے حوالے سے بھی غصہ نہیں ہے ، جب سے ہم ساتھ رہے ہیں ، صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہم راستے میں کسی جگہ تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، وہ دونوں رو رہے تھے وہ دونوں اپنی والدہ کے ساتھ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلتے ہوئے ان دونوں کے پاس تشریف لائے ، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میرے بچوں کا کیا معاملہ ہے ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : پیاس لگی ہوئی ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کی طرف بڑھے تاکہ اس میں سے پانی حاصل کریں ، پانی اس وقت موجود نہیں تھا ، لوگ پانی کی تلاش میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں پکار کر کہا: کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ، تو ہر شخص نے اپنا ہاتھ اپنے مشکیزے کی طرف بڑھایا تاکہ اس میں پانی تلاش کرے ، لیکن کسی شخص کو ایک قطرہ نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا : ان دونوں میں سے ایک کو مجھے پکڑا دو ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ایک صاحبزادے کو پکڑایا ، میں نے ان کی کلائی کی سفیدی دیکھی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحبزادے کو پکڑا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحبزادے کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ لگایا ، وہ صاحبزادے رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان باہر نکالی اور ان صاحبزادے نے اسے چوسنا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گئے ، پھر میں نے ان کے رونے کی آواز نہیں سنی ، دوسرے صاحبزادے پہلے کی طرح ہی رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوسرے کو مجھے پکڑاؤ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے صاحبزادے آپ کو پکڑائے تو آپ نے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ، یہاں تک کہ وہ دونوں خاموش ہو گئے اور مجھے ان دونوں کی آواز سنائی نہیں دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ روانہ ہو جاؤ ! تو ہم خواتین سے دائیں بائیں پیچھے ہٹ گئے ، یہاں تک کہ بعد میں راستے میں ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، تو جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، تو کیا میں ان دونوں سے محبت نہ رکھوں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔