مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ . باب: اس چیز کا بیان ، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
وَعَنْهُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْقَ بِأَبِيكَ عَيْنَ بَقَّةٍ " . وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ فَرَقَى عَلَى عَاتِقِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ الْآخَرُ مِنْ بُقْعَةٍ أُخْرَى ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْقَ بِأَبِيكَ أَنْتَ عَيْنُ الْبَقَّةِ " . وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ ، فَاسْتَوَى عَلَى عَاتِقِهِ الْآخَرِ . وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَقْفِيَتِهِمَا ، حَتَّى وَضَعَ أَفْوَاهَهُمَا عَلَى فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا ، فَأَحِبَّهُمَا ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس ٹھہرے ، آپ نے سلام کیا ، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نکل کر آپ کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اپنے ( نانا ) ابوپر چڑھ جاؤ ، اے چھوٹی آنکھوں والے ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں اپنی گردن پر بٹھا لیا پھر دوسرے صاحبزادے دوسرے گوشے سے نکل کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اپنے ابوپر چڑھ جاؤ اے چھوٹی آنکھوں والے ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں گردن کے دوسرے حصے پر بٹھا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن پکڑ کر ان کا منہ اپنے منہ پر رکھا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ اور اس شخص سے بھی محبت رکھنا جو ان دونوں سے محبت رکھے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔