مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ لِمُعَاوِيَةَ : إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَيِيٌّ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لَا تَقُولَا ذَلِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ تَفَلَ فِي فِيهِ ، وَمَنْ تَفَلَ فِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَيْسَ بِعَيِّيٍّ . فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ : أَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو فَتَنَازَعَ فِيكَ رَجُلَانِ ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَبَاكَ ؟ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ رِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ السِّيرَافِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عبدالرحمن بن ابوعوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ابواعور سلمی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تہ سے کہا: حسن بن علی ایک کمزور شخص ہیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دونوں یہ بات نہ کہو ، کیونکہ اللہ کے رسول نے ان کے منہ میں لعاب دہن ڈالا ہے ، اور جس کے منہ میں اللہ کے رسول نے لعاب دہن ڈالا ہو وہ بولنے میں کمزور نہیں ہو سکتا ، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے عمرو ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تمہارے بارے میں دو آدمیوں نے جھگڑا کیا تھا ، تو تم اس بات کا جائزہ لو کہ تمہارا باپ کون ہے ؟ اور اے ابواعور ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو اللہ کے رسول نے رعل اور ذکوان قبیلے اور عمرو بن سفیان پر لعنت کی ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عون سیرافی سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔