مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ ، وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ آخِذٌ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا حَسَنًا - أَوْ حُسَيْنًا - وَقَدَمَاهُ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " حُزُقَّةٌ حُزُقَّةْ تَرَقَّ عَيْنَ بَقَّةْ " . ¤ فَيَرْقَى الْغُلَامُ ، فَيَضَعُ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " افْتَحْ فَاكَ " . ثُمَّ قَبَّلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ أَحَبَّهُ فَإِنِّي أُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مُزَرِّدٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ان دو کانوں نے اسے سنا اور میری ان دونوں آنکھوں نے اس کو دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑا ہوا تھا اور اس بچے کے دونوں پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ” اے ننھے میاں ، اے ننھے میاں ، اوپر چڑھ جاؤ اے چھوٹی آنکھوں والے ۔ “ تو وہ بچہ اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ اس نے اپنے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنا منہ کھولو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو میں بھی اس سے محبت رکھوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومزرد ہے ، اور میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔