حدیث نمبر: 15031
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى ظَهْرِهِ وَعَلَى عُنُقِهِ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفْعًا رَفِيقًا ; لِئَلَّا يُصْرَعَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ بِالْحَسَنِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ صَنْعَتَهُ بِأَحَدٍ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا ، وَإِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپ کی گردن پر اور آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے اٹھے تاکہ بچہ گر نہ جائے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو حسن کے حوالے سے ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ہم نے آپ کو کسی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دنیا میں میرا پھول ہے ، میرا یہ بیٹا سردار ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے ذریعے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دے گا ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1554) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2595) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (44/5)»