حدیث نمبر: 15030
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ ، قَالَ : فَبَاعَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - دِرْعًا لَهُ ، وَبَعْضَ مَا بَاعَ مِنْ مَتَاعِهِ ، فَبَلَغَ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَ ثُلُثَيْهِ فِي الطِّيبِ ، وَثُلُثًا فِي الثِّيَابِ ، وَمَجَّ فِي جَرَّةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَغْتَسِلُوا بِهِ . قَالَ : وَأَمَرَهَا أَنْ لَا تَسْبِقَهُ بِرِضَاعِ وَلَدِهَا . قَالَ : فَسَبَقَتْهُ بِرِضَاعِ الْحُسَيْنِ ، وَأَمَّا الْحَسَنُ فَإِنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ فِي فِيهِ شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ ، فَكَانَ أَعْلَمَ الرَّجُلَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا ، راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود زرہ کو فروخت کیا اور اپنے سامان میں سے کچھ سامان فروخت کیا ، تو انہیں چار سو اسی درہم ملے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دو تہائی رقم خوشبو میں خرچ کریں اور ایک تہائی رقم کپڑوں کے لیے استعمال کریں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے گھڑے میں کلی کی اور ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس پانی کے ساتھ غسل کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے نے بچے کو دودھ نہیں پلانا ، راوی بیان کرتے ہیں : لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دودھ پلا دیا تھا ۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں کوئی چیز ڈالی تھی ، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز تھی ؟ تو وہ ان دونوں حضرات میں زیادہ علم رکھنے والے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح