حدیث نمبر: 15016
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ ؟ قَالَ : " فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ ، وَأَنْتَ أَعَزُّ مِنْهَا ، وَكَأَنِّي بِكَ وَأَنْتَ عَلَى حَوْضِي تَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ ، وَإِنَّ عَلَيْهِ الْأَبَارِيقَ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، وَإِنِّي وَأَنْتَ ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، وَفَاطِمَةَ ، وَعَقِيلًا ، وَجَعْفَرًا ، فِي الْجَنَّةِ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ، أَنْتَ مَعِي وَشِيعَتُكَ فِي الْجَنَّةِ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ) لَا يَنْظُرُ أَحَدٌ فِي قَفَا صَاحِبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلْمَى بْنُ عُقْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک کون زیادہ محبوب ہے ، میں یا فاطمہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو ، یوں ہے کہ جیسے تم میرے حوض پر ہو گے ، اور اس سے لوگوں کو پرے کر رہے ہو گے حالانکہ اس حوض پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں کوزے ہوں گے ، اور میں اور تم اور حسن اور حسین اور فاطمہ اور عقیل اور جعفر جنت میں ہوں گے ۔ ہم بھائی بھائی بن کے پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ، جنت میں تم میرے ساتھ ہو گے ، اور تمہارے ساتھی بھی ہوں گے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ بھائی بھائی ہوں گے جو پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” کوئی شخص اپنے ساتھی کی گدی کی طرف نہیں دیکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمیٰ بن عقبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف