مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ الْعَبَّاسُ يَعُودُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ ، فَرَفَعَهُ فَأَجْلَسَهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَفَعَكَ اللَّهُ يَا عَمِّ " . فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : هَذَا عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " يَدْخُلُ " . فَدَخَلَ وَمَعَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : هَؤُلَاءِ وَلَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَهُمْ وَلَدُكَ يَا عَمِّ " . قَالَ : أَتُحِبُّهُمَا ؟ قَالَ : " أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أَحْبَبْتُهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا اور آپ کو پلنگ پر بٹھا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے چچا ! اللہ تعالیٰ آپ کو سربلندی عطا کرے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : علی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، راوی کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، وہ اندر آئے اور ان کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی اولاد ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے چچا جان یہ آپ کی بھی اوالاد ہیں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ سے بھی اسی طرح محبت رکھے جس طرح ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی حجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔