حدیث نمبر: 15010
وَعَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ اسْتُخْلِفَ ، فَبَيْنَا هُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ إِذْ وَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَطَعَنَهُ بِخِنْجَرٍ فِي وَرِكِهِ ، فَتَمَرَّضَ مِنْهَا أَشْهُرًا ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، اتَّقُوا اللَّهَ فِينَا ; فَإِنَّا أُمَرَاؤُكُمْ وَضِيفَانُكُمْ ، وَنَحْنُ أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا . فَمَا زَالَ يَوْمَئِذٍ يَتَكَلَّمُ حَتَّى مَا تَرَى فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بَاكِيًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوجمیلہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو خلیفہ منتخب کیا گیا ۔ تو ایک دن وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، تو اسی دوران ایک شخص نے ان پر حملہ کر کے ان کے پہلو پر خنجر مار دیا جس کی وجہ سے وہ کئی مہینے تک بیمار رہے ، پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اے اہل عراق ! ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ہم تمہارے امیر بھی ہیں ، اور تمہارے مہمان بھی ہیں ، اور ہم اہل بیت وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس دن سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ مسلسل گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ مسجد میں ہر شخص روتا ہوا نظر آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2761)»