مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَعَلِيٌّ نَائِمٌ ، وَهِيَ مُضْطَجِعَةٌ ، وَابْنَاهُمَا إِلَى جَنْبِهِمَا ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى لِقْحَةٍ لَهُمْ ، فَحَلَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِهِ ، فَاسْتَيْقَظَ الْحُسَيْنُ ، فَجَعَلَ يُعَالِجُ أَنْ يَشْرَبَ قَبْلَهُ حَتَّى بَكَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَخَاكَ اسْتَسْقَى قَبْلَكَ " . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : كَأَنَّ الْحَسَنَ آثَرُ عِنْدَكَ ؟ فَقَالَ : " مَا هُوَ بِآثَرَ عِنْدِي مِنْهُ ، وَإِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ ، وَهَمَا ، وَهَذَا النَّائِمَ لَفِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں اور ان کے دونوں بیٹے ان کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے ۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پینے کے لئے کچھ مانگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس تشریف لے گئے جس کے ہاں بچہ ہونے والا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا اور اسے لے کے آئے ، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی بیدار ہو گئے اور انہوں نے یہ ضد کرنا شروع کی کہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے اسے پیئیں گے ، یہاں تک کہ وہ رونے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی نے تم سے پہلے یہ مانگا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یوں لگتا ہے جیسے حسن کو آپ کے نزدیک ترجیح حاصل ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ میرے نزدیک اس سے زیادہ ترجیح والا نہیں ہے ، یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں ، میں اور تم اور یہ دونوں اور یہ سویا ہوا شخص ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔