مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : أَقَامَ رِجَالٌ خُطَبَاءَ يَسُبُّونَ عَلِيًّا ، حَتَّى كَانَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أُنَيْسٌ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَكْثَرَ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ " . ¤ وَايْمُ اللَّهِ ! مَا أَحَدٌ أَوْصَلُ لِرَحِمِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَيَرْجُوهَا غَيْرَهُ وَيُقَصِّرُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ؟ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : کچھ خطیب لوگ کھڑے ہوئے اور خطبہ کے دوران انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا: ، ان سب سے آخر میں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑے ہوئے جن کا نام سیدنا انیس رضی اللہ عنہ تھا ، انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں قیامت کے دن اس سے زیادہ تعداد کے لوگوں کی شفاعت کروں گا جتنے زمین پر درخت اور پتھر ہیں ۔ “ ( پھر سیدنا انیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! کوئی بھی شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے ، تو کیا دوسرے لوگوں کو تو شفاعت کی امید ہو گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کو وہ شفاعت نہیں ملے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔