مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي حَقِّ اللَّهِ - تَعَالَى - عَلَى الْعِبَادِ . باب: بندوں پر ، اللہ تعالیٰ کے حق کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " قَالَ مُعَاذٌ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَقُّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا عَبَدُوهُ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ؟ " قَالَ مُعَاذٌ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " حَقُّهُمْ عَلَيْهِ أَنْ يُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ " . قَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا آتِي النَّاسَ فَأُبَشِّرَهُمْ ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا ، دَعْهُمْ فَلْيَعْمَلُوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تجھے نبی اکرم نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا اُن ( بندوں ) پر یہ حق ہے کہ وہ ( بندے ) اُسی کی عبادت کریں اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ جب بندے اُس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، تو بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُن ( بندوں ) کا اُس پر یہ حق ہو گا کہ وہ انہیں جنت میں داخل کر دے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کے پاس جا کر انہیں خوشخبری نہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہیں رہنے دو ! تاکہ وہ عمل کرتے رہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔