مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَاسْتَأْذَنَهُ مُعَاذٌ لِيَخْرُجَ بِهَا إِلَى النَّاسِ فَيُبَشِّرَهُمْ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَخَرَجَ فَرِحًا مُسْتَعْجِلًا فَلَقِيَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : كَمَا أَنْتَ ، لَا تَعْجَلْ . ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنْتَ أَفْضَلُ رَأْيًا ، إِنَّ النَّاسَ إِذَا سَمِعُوا بِهَذَا اتَّكَلُوا عَلَيْهَا فَلَمْ يَعْمَلُوا ، قَالَ : " فَرُدَّهُ ، فَرَدَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لا الہ الا للہ پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی “ ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ اس بات کو لے کر لوگوں کے پاس جائیں اور انہیں خوش خبری سنائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ خوشی کے عالم میں تیزی سے نکلے راستے میں اُن کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ٹھہر جاؤ اور جلدی نہ کرو ! پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ویسے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے سب سے بہتر ہے لیکن لوگ اگر اس بارے میں سن لیں گے تو اسی پر اکتفاء کر لیں گے اور عمل نہیں کریں گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے واپس بلا لو ! اسے واپس بلا لو !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے جسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔