حدیث نمبر: 14989
وَعَنْ صُبَيْحٍ قَالَ : كُنْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ عَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، فَجَلَسُوا نَاحِيَةً ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ عَلَى خَيْرٍ " . وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ خَيْبَرِيٌّ ، فَجَلَّلَهُمْ بِهِ ، وَقَالَ : " أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صبیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر موجود تھا اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے ، یہ لوگ ایک کونے میں بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ بھلائی پر ہو ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر خیبر کی چادر موجود تھی ، آپ نے وہ چادر ان پر ڈال دی اور یہ فرمایا : ” میں اس شخص سے جنگ کروں گا جو تم سے جنگ کرے گا ، اور اس شخص کے ساتھ سلامتی والا رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامتی والا رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف