مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَسَطَ شَمْلَةً ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا هُوَ وَعَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِهِ فَعَقَدَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْهُمْ كَمَا أَنَا عَنْهُمْ رَاضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُبَيْدِ بْنِ طُفَيْلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، كُنْيَتُهُ : أَبُو سِيدَانَ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھائی ہوئی تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس پر موجود تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کناروں کو پکڑا اور وہ چادر ان پر ڈال کر ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! ان سے راضی ہو جا جس طرح میں ان سے راضی ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبید بن طفیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس کی کنیت ابوسیّدان ہے ۔