حدیث نمبر: 14969
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي يَوْمًا ، إِذْ قَالَتِ الْخَادِمُ : إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ . ¤ قَالَتْ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُومِي ، فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي " . قَالَتْ : فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا ابْنَاهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ ، فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا ، وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى ، فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا ، فَأَغْدَقَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَأَنْتِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے اسی دوران خادم نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر موجود ہیں ( یا آ رہے ہیں ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ، اور میرے اہل بیت سے ذرا ہٹ جاؤ ! سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں بٹ گئی اور گھر میں ایک طرف ہو کے بیٹھ گئی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اندر آئے ، ان دونوں کے ساتھ ان کے بچے حسن اور حسین تھے ، یہ دونوں کمسن بچے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا اور ان دونوں کو بوسہ دیا ، آپ نے ایک طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لگایا دوسرے ہاتھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لگا کے انہیں بوسہ دیا ، آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بوسہ دیا ، پھر آپ نے ان پر ایک سیاہ رنگ کی چادر ڈالی اور پھر یہ کہا: ” اے اللہ ! تیری طرف آئیں گے ، جہنم کی طرف نہیں جائیں گے ، میں اور میرے اہل بیت ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14969
درجۂ حدیث محدثین: «إسناده ضعيف لجهالة والدِ عطيه الطفاوي ولكن حديث صحيح »