مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ سِيرِينَ قَالَتْ : حَضَرْتُ مَوْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ كُلَّمَا صِحْتُ وَأُخْتِي صَاحَ النِّسَاءُ وَلَا يَنْهَانَا ، فَلَمَّا مَاتَ نَهَانَا عَنِ الصِّيَاحِ ، وَحَمَلَهُ إِلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، وَالْعَبَّاسُ إِلَى جَنْبِهِ ، وَنَزَلَ فِي الْقَبْرِ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَأَنَا أَبْكِي عِنْدَ قَبْرِهِ ، فَمَا نَهَانِي ، وَكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ النَّاسُ : هَذَا لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا لَا تَنْكَسِفُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ " . وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُرْجَةً فِي الْقَبْرِ ، فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُسَدَّ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَنْفَعُهُ ؟ فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَا تَنْفَعُهُ وَلَا تَضُرُّهُ ، وَلَكِنْ يَقَرُّ بِعَيْنِ الْحَيِّ " . وَمَاتَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِعَشْرٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ عَشْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا الْوَاقِدِيُّ ، وَفِي الْآخَرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَكِلَاهُمَا مَتْرُوكٌ . ¤سیرین نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے قریب ان کے پاس موجود تھی ، میں چیخ رہی تھی اور میری بہن بھی چیخ کے رو رہی تھی ، خواتین بھی چیخ کے رو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہیں کیا لیکن جب ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چیخنے سے منع کر دیا ، بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گود میں اٹھا کر قبر کے کنارے پر آئے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، قبر میں سیدنا فضل بن عباس اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اترے میں ان کی قبر کے پاس بیٹھ کر رونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع نہیں کیا ، اسی دوران سورج گرہن ہو گیا تو کچھ لوگوں نے کہا: یہ سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا ہے ۔ “ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر میں کشادگی دیکھی تو حکم دیا کہ اسے بند کر دیا جائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اس کا اسے فائدہ ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا اسے تو فائدہ نہیں ہو گا ، یا نقصان نہیں ہو گا ، لیکن یہ چیز زندہ شخص کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتی ہے ۔ “ ان صاحبزادے کا انتقال منگل کے دن دس ربیع الاول دس ہجری میں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی واقدی ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور یہ دونوں متروک ہیں ۔