حدیث نمبر: 14952
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ أُمِّ وَلَدِهِ وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ بِإِبْرَاهِيمَ ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا نَسِيبًا لَهَا كَانَ قَدِمَ مَعَهَا مِنْ مِصْرَ ، فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ ، وَإِنَّهُ رَضِيَ لِمَكَانِهِ مِنْ أُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجُبَّ نَفْسَهُ ، فَقَطَعَ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ حَتَّى لَمْ يُبْقِ لِنَفْسِهِ شَيْئًا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا عِنْدَهَا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ كَمَا يَقَعُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ ، فَرَجَعَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ، فَلَقِيَ عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ قَرِيبِ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ ، فَأَخَذَ السَّيْفَ ، وَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى دَخَلَ عَلَى مَارِيَةَ ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا ذَلِكَ عِنْدَهَا ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ لِيَقْتُلَهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُ كَشَفَ عَنْ نَفْسِهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عُمَرُ ، إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَانِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ بَرَّأَهَا وَقَرِيبَهَا مِمَّا وَقَعَ فِي نَفْسِي ، وَبَشَّرَنِي أَنَّ فِي بَطْنِهَا غُلَامًا مِنِّي ، وَأَنَّهُ أَشْبَهُ الْخَلْقِ بِي ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُسَمِّيَهُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكَنَّانِي بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ ، وَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُحَوِّلَ كُنْيَتِيَ الَّتِي عُرِفْتُ بِهَا لَتَكَنَّيْتُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ ، كَمَا كَنَّانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جو ان کی اُم ولد تھیں اور وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حاملہ تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے پاس ان کے ایک رشتے دار کو پایا جو مصر سے اس خاتون کے ساتھ آیا تھا ، اس شخص نے اسلام قبول کر لیا تھا ، اس کا اسلام اچھا تھا ، وہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اس لئے آیا کرتا تھا کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُم ولد تھیں ، اس نے اپنے آپ کو مجبوب کر لیا ( یعنی اپنی شرمگاہ کو کاٹ دیا ) اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان موجود پوری چیز کو کاٹ دیا اور اپنے لئے تھوڑا یا زیادہ کچھ نہیں رہنے دیا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے اس شخص کو اس خاتون کے پاس پایا ، آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کچھ الجھن پیدا ہوئی ، جس طرح لوگوں کے من میں آ جاتی ہے ، آپ واپس تشریف لے گئے ، آپ کی رنگت تبدیل تھی ( یعنی آپ غصے میں تھے ) آپ کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کے بارے میں بتایا جو ام ابراہیم کے پاس اس شخص کے ہونے کی وجہ سے آپ کے من میں تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار پکڑی اور دوڑتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، انہوں نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس شخص کو پایا ۔ انہوں نے اس کو قتل کرنے کے لئے اس کی طرف تلوار بڑھائی ، جب اس شخص نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنی شرمگاہ سے کپڑا ہٹایا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا : اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کو اور اس کے رشتے دار کو اس چیز کے حوالے سے بری قرار دیا ہے ، جو میرے من میں آئی تھی اور اس نے مجھے یہ خوشخبری دی ہے کہ اس عورت کے پیٹ میں میرا ایک بیٹا ہے ، جو ظاہری تخلیق کے اعتبار سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ، اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس کا نام ابراہیم رکھوں اور اس نے میری کنیت ابوابراہیم تجویز کی ہے ، اگر میں اس بات کو ناپسند نہ کرتا ہوتا کہ میں جس کنیت کے حوالے سے معروف ہوں ۔ اسے تبدیل کر دوں تو میں نے ابوابراہیم کنیت اختیار کرنی تھی ، جس کنیت سے جبریل نے مجھے مخاطب کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف